حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج کے دور میں خاندانوں کو ایسے ماحول کا سامنا ہے جہاں ثقافتی حدود تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں اور بچے و نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعہ مختلف اخلاقی اور فکری چیلنجز کی زد میں ہیں۔ ایسے حالات میں نئی نسل کی حفاظت کے لیے جنسی تربیت ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔
اسی تناظر میں حجت الاسلام والمسلمین محسن عباسی ولدی نے ’’آج کی دنیا میں جنسی تربیت‘‘ کے سلسلے کی پندرہویں نشست میں "دینی تربیت، ایمان کی مضبوطی اور عقیدۂ معاد کی اہمیت" پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا: جنسی خواہشات پر قابو پانے اور ان کی درست رہنمائی کے لیے محض ظاہری پابندیاں کافی نہیں بلکہ ایمان بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بچوں میں فطرتِ توحیدی کو بیدار کرنے، قرآن کریم سے تعلق مضبوط بنانے اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت، محبت اور معرفت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

عقیدۂ معاد؛ دینی تربیت کا بنیادی ستون
حجت الاسلام عباسی ولدی نے کہا: جنسی تربیت کے دوران بچوں اور نوجوانوں پر بعض پابندیاں عائد کرنا ناگزیر ہوتا ہے، تاہم اگر ان پابندیوں کے ساتھ ان کے مقاصد اور نتائج واضح نہ کیے جائیں تو بچے محرومی کا احساس محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہی احساس رفتہ رفتہ دینی احکام کے بارے میں نفرت، ذہنی کشمکش اور دین سے دوری کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا: ایک طالب علم امتحان میں کامیابی کے لیے اپنی تفریح اور دیگر سرگرمیوں کو محدود کرتا ہے لیکن والدین اسے مستقبل کی کامیابی اور بہتر زندگی کا تصور دے کر ان پابندیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح دینی تربیت میں بھی بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ دنیاوی لذتوں پر بعض پابندیوں کے مقابلے میں آخرت کی دائمی نعمتیں اور اجر و ثواب موجود ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ عقیدۂ معاد اور ابدیت کا تصور دینی تربیت کا بنیادی ستون ہے۔ اگر بچوں اور نوجوانوں کی فکری تربیت میں آخرت اور دائمی زندگی کو شامل نہ کیا جائے تو وہ دینی پابندیوں کو محرومی سمجھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں افسردگی، تنہائی اور دین سے دوری پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
بچوں کو قیامت اور آخرت کے تصورات سے آگاہ کرنا ضروری ہے
حجت الاسلام عباسی ولدی نے اس نظریے پر تنقید کی کہ بچوں سے قیامت، جنت، جہنم اور موت کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ ان تصورات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا اس سے ان میں خوف پیدا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا: ابدیت کی خواہش انسانی فطرت میں موجود ہے اور بچے بھی فطری طور پر ہمیشہ باقی رہنے اور جاودانی زندگی کے تصور سے تعلق قائم کرسکتے ہیں۔ لہٰذا چند سوالات اور ذہنی الجھنوں کے خدشے کی بنیاد پر معاد کے تصور کو بچوں کی تربیت سے خارج کرنا درست نہیں۔ البتہ ان موضوعات کو بچوں کے فہم اور عمر کے مطابق حکمت و تدبیر سے بیان کرنا ضروری ہے۔
اس ماہر تعلیم نے مزید کہا: جب شریعت کسی نوجوان سے نماز، روزہ، حجاب اور نامحرم کے ساتھ تعلقات میں حدود کی پابندی کا تقاضا کرتی ہے تو اسے ان احکام کی حکمت اور اخروی اجر سے بھی آگاہ کرنا چاہیے، تاکہ وہ ان ذمہ داریوں کو محض پابندی نہیں بلکہ ایک بامقصد دینی راستہ سمجھے۔

شہداء کی سیرت؛ نوجوانوں کی تربیت کا روشن نمونہ
انہوں نے نوجوان شہداء کی زندگیوں کو اس بات کی دلیل قرار دیا کہ بچے کم عمری میں بھی معاد، ابدیت اور اعلیٰ دینی اقدار کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے تیرہ سالہ شہید بہنام محمدی اور بارہ سالہ شہید رضا پناہی کی مثالیں پیش کیں، جن کی وصیتوں سے خداوند متعال، امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور راہِ حق میں قربانی کے جذبے کا اظہار ہوتا ہے۔
حجت الاسلام ولدی نے کہا: ہماری دینی تعلیمات میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ بچوں کو کم عمری ہی سے توحید، معاد اور اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت کے ذریعہ بلند ایمانی کردار کا حامل بنایا جائے۔
فطرت، قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستگی ضروری ہے
حجت الاسلام عباسی ولدی نے والدین اور مربّیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: بچوں کی پاک فطرت ایک عظیم تربیتی سرمایہ ہے، اسے بے بنیاد نظریات کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو بچوں کی تربیت کا محور بناتے ہوئے انہیں دنیاوی زندگی کے ساتھ آخرت اور ابدیت کا شعور بھی دینا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر والدین اور مربّی خود اپنی بنیادی دینی تربیتی صلاحیتوں سے دستبردار ہوجائیں تو نئی نسل دوسروں کے ثقافتی تصورات اور طرزِ زندگی سے متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت میں ایمان، توحید، معاد اور اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت و معرفت کو بنیادی مقام دیا جائے۔










آپ کا تبصرہ